RANDOM / BY LABEL (Style 2)

پاکستان کا سیاسی نظام، اشرافیہ کی عیاشیاں اور مہنگائی سے بے حال عوام اوران مسائل اس کا حل؟

Admin 0


موسم بدل رہا ہے،  گرمی شروع ہوچکی ہے۔ اور بجلی کے بل غریب عوام کا خون چوسنے کے لئے آنا شروع ہو چکے ہیں ۔
دنیا کی مہنگی ترین بجلی شاید پاکستانی عوام ہی خرید رہی ہے ۔اور اس کی وجہ میری عقل کے مطابق خود عوام ہے۔ 
عوام نے رب العالمین کے نظام کی بجائے اس جمہوریت کے خداؤں کی پرستش شروع کر رکھی ہے،  کوئی بھٹو گینگ تو کوئی نوازشریف اینڈ کمپنی کے قصیدے پڑھنے میں مصروف ہے، کوئی کسی مولانا کا ثنا خواں ہے تو کوئی عمران نیازی کو خدا کا درجہ دے کر نجات دہندہ قرار دیتا پھر رہا ہے۔ 
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سب جمہوریت کے خداؤں نے مل کر عوام کو غربت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے، 
تصور کریں کہ کنالوں اور ایکڑوں کے محلوں میں رہنے والے چند مرلوں اور گزوں کے گھروں میں رہنے والوں دکھ اور پریشانی کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟  جن کے کتوں اور گھوڑوں کا ماہانہ خرچ عام پاکستانی کی ماہانہ آمدن سے زیادہ ہو وہ کیسے عام عوام کی تکالیف کو سمجھ سکتا ہے؟؟؟  
سب سے پہلے تو آپ یہ کریں کہ بجلی پیدا کرنے کی اپنی ذاتی کوشش کریں ۔
والدہ یا آپ کی بیوی کے پاس جتنا بھی سونا پڑا ہے۔ وہ فورا بیچ کر سولر پینل خرید لیں ۔ خیال رہے کہ 
ایک طرف سونے کی قیمت پاکستان میں تاریخی بلند ترین سطی کو چھو رہی ہے۔ 241400 روپے فی تولہ
تو دوسری طرف سولر پینل کی قیمتیں بھی آسمان سے زمین کی طرف رواں دواں ہیں اور اب تو زیر زمین جا چکی ہیں۔ جو 550  واٹ کا ایک پینل میں نے پچھلے سال 52500 میں فروخت ہورہا تھا۔ اب وہی پینل23000  کا ہو چکا ہے۔ 

والدہ یا بیوی کے پاس جتنا بھی سونا پڑا ہے۔ وہ فورا بیچ کر سولر پینل خرید لیں اور خود کو واپڈا کے ظالمانہ اور قاتل ٹیرف سے بچائیں ۔ سونا پڑا ہوا انڈے نہیں دے رہا۔ پینل بجلی دیں گے اور ماہانہ بل سے جان چھوٹے گی۔ اگر گھر کی خواتین سونا بیچنے پر رضا مند نہیں ہوتیں تو ان کو بتائے بغیر بیچ کر پینل خرید لیں ۔ جب پیسے پاس آجائیں تو پھر سونا خریدا جا سکتا ہے۔ بل ہر ماہ آپ کی جیب سے جانا ہے۔ اور زیور تو کئی مہینوں بعد چند گھنٹے پہن کر کونسا کسی سے انعام لے لینا ہوتا۔ 

اس مضمون کو پڑھنے کے بعد بجائے سوچنے کے پہلے سنار مارکیٹ اور پھر سولر مارکیٹ کی راہ پکڑیں دوستو کل ہی۔ جی پی فنڈ نکلواو یا کوئی پلاٹ بیچو۔ یا کوئی اضافی چیز بیچ کر پیسے آسکتے ہیں تو وہ بیچ دو اور سولر خریدو۔ کرائے دار بھی کرائے کے مکان میں سولر لگائیں۔ جب جائیں گے تو وہ اتر جائے گا اور ساتھ لے جائیں۔  

آپ کے ان جمہوری خداؤں کو جن کو ووٹ دے کر آپ نے اقتدار تک پہنچایا ہے ان کی عیاشیوں کے لئے اس واپڈا نے ایسا خونی اور شیطانی ٹیرف بنا لیا ہے کہ آپ جو مرضی کر لیں وہ آپ کا خون ان گرمیوں میں چوس لیں گے۔ آپ ان کو بد دعائیں اور گالیاں ہی دے سکیں گے بل جمع کرانا ہی ہوگا۔ چالیس پچاس دن بعد تو ریڈنگ لینے آتے ہیں۔ کہ ہر کوئی پروٹیکٹڈ ٹیرف سے باہر نکل آئے اور ہم اپنے آقاؤں کی عیاشیوں اور بدمعاشوں کی بجلی چوری کے سارے گھاٹے غریب اور سفید پوش عوام سے وصول کر سکیں۔ آج ہی فیصلہ کریں کہ خود کو واپڈا سے اور ان جمہوری سیاسی اور بیوروکریسی کے خداؤں سے آزاد کرنا ہے۔ حق حلال کی کمائی کیوں ان کو ہر ماہ پچاس قسم کے ٹیکسوں کی مد میں دیتے رہیں؟  کیوں ان کی عیاشیوں کے لئے ہم اپنی حلال کی کمائی سے ٹیکس دیں؟  
ان بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی بجلی، فون اور پٹرول کا خرچہ ہم کیوں اٹھائیں؟  
اٹھیں اور چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کے لئے کوشش کریں ۔ 
کسی زمانے میں ایک تحریک استقلال ہوتی تھی مرحوم ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان اس کے بانی تھے ۔ انہوں نے یہ نعرہ دیا تھا کہ کہ
 چہرے نہیں نظام کو بدلو۔
اور پاکستان کا ایسا شریف سیاست دان تھا جس نے مرتے دم تک کبھی بھی اقتدار کے لئے اس نظام کا حصہ بننا گوارہ نہیں کیا،  وہ واقعی مخلص تھے نظام کی تبدیلی کے لئے ۔ لیکن ان پیشہ ور خاندانی سیاست دانوں کے مدمقابل وہ کچھ نہ کر سکے،  لیکن اگر کوئی باشعور شخص غور کرے تو وہ ایک راہ دیکھا گئے ہیں ۔
اور ان کے ساتھ ساتھ اور. بھی محب وطن پاکستانیوں سچے دانشمد یہی کہتے رہے ہیں اور آج بھی جو چند ہیں وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ کہ چہرے نہیں نظام کو تبدیل کیا جائے ۔ کیوں کہ موجودہ نظام میں پہلے دو بڑے گروہ تھے ۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی اور اب تین ہوچکے ہیں تیسرا گروہ اب تحریک انصاف کے نام سے میدان میں ہے ۔ لیکن ان کے چہرے الگ الگ ہیں، ورنہ یہ سب یکساں ہیں ایک جیسے اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کا حصہ ہیں ان میں سے کوئی بھی برسرِ اقتدار آئے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ چہرے تبدیل ہوتے ہیں، نظام اور عیاشیاں وہی رہتی ہیں اور عوام کی اسی طرح تذلیل کی جاتی ہے،  
سب سے پہلے تو آپ کو واپڈا کی بجائے سولر پینل سے اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی ہے،  
اس کے بعد آپ کو ان سیاست کے خداؤں سے عقیدت ختم کر کے اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ دئیے گئے نظام کے لئے وقف کرنے کی ضرورت ہے،  
تاکہ چہروں کی بجائے نظام کو تبدیل کیا جا سکے۔ اور یہ تبدیلی ہم لا سکتے ہیں ۔ اور سب سے پہلے یہ تبدیلی خود میں لانے کی ضرورت ہے،  ہر شخص پہلے خود اپنی ذات پر اسلام نافذ کرے پھر اپنے گھر میں ۔۔۔ تو ان شاء اللہ تبدیلی کی شروعات ہو جائیں گی، 
کسی نئے یا پرانے پاکستان کے نعرے کی بجائے اگر ہم صرف اسلامی پاکستان پر ایک ہو جائیں تو اس ظالمانہ اور غلامانہ نظام سے اور ان گندے سیاسی چہروں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور جو یہ مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکس غریب عوام پر نافذ ہیں ان سے نجات حاصل کر سکتے ہیں،  
یاد رکھیں ان ظالم جمہوری خداؤں نے اپنے اقتدار کے لئے عوام میں نفرت کی وہ فصل کاشت کی ہے کہ بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا ہے،  
اور خود بجلی پیٹرول اور دوسری ایسی چیزوں سے عوام کا خون چوسنے میں لگے ہیں اور عیاشیاں کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ اور مولانا مودودیؒ نے جو سوچ اور فکر اس قوم کو دینے کی کوشش اور جدوجہد کی ہمیں اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے،  تاکہ ہم اس نظام کو تبدیل کر سکیں،  
جب تک نظام کی تبدیلی نہیں ہوتی یقین رکھیں نہ ارضِ وطن کی تقدیر بدل سکتی ہے نہ عوام کی ۔
آئیں ہم عہد کریں کہ ہم اس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کریں گے،  اور غریب عوام کے ٹیکسوں پر اس اشرافیہ ( جو دراصل بدماشیہ)  ہے کو عیاشیاں نہیں کرنے دیں گے،  اور اب جمہوریت کے جھوٹ پر مبنی نعروں اور پروپیگنڈہ کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ 
تاکہ عوام اور پاکستان کی تقدیر کو تبدیل کیا جا سکے،
اور ہم یعنی عوام یہ کر سکتے ہیں اگر ہم موجودہ نظام کے خلاف ایک ہو جائیں، 
اس نظام نے ارضِ وطن کو تعصب کی آگ میں جھونک دیا ہے ۔ قومی وحدت کو ختم اور گروہ بندی کر دی ہے عوام میں ۔ 
ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمیں ان سیاسی گروہ بندیوں سے نکلنے کی ضرورت ہے،  کیوںکہ یہ تعصب بنانے کے کارخانے ہیں، یہ جمہوری سیاسی جماعتوں کا پھیلایا گیا تعصب مزہبی فرقہ واریت سے بھی زیادہ شدید ہے اور تباہی کی طرف لے جا رہا ہے ۔ 

تعصب پر فرمایا نبویؐ ہے۔

حدیث نمبر: 5121
سنن ابی داؤد 

حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن سعيد بن ابي ايوب، عن محمد بن عبد الرحمن المكي يعني ابن ابي لبيبة، عن عبد الله بن ابي سليمان، عن جبير بن مطعم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" ليس منا من دعا إلى عصبية، وليس منا من قاتل على عصبية، وليس منا من مات على عصبية".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے“۔
اور تعصب کیا ہے ؟ اس کی تعریف یہ ہے۔

گروہ بندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضبوطی، قرابت کا لحاظ و خیال، اپنے مسلک یا گروہ کی وفاداری اور پاسداری
اپنوں کی بے جا حمایت اور دوسروں سے نفرت، تعصب
خویشی، وہ تعلق جو وراثت میں حصّے کا مستحق کرے۔
یہ سادہ الفاظ میں عصبیت کی تعریف ہے،  اور اسی عصبیت کی وجہ سے یہ ظالم اور عیاشیوں سے بھرپور نظام ہم پر نافذ ہے،  
حدیث مبارکہ کے الفاظ پر غور کریں اگر دل میں کچھ بھی حب رسولؐ اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم ہے تو۔۔۔
کیا اپنے رسولؐ کے فرمان کو جاننے کے بعد بھی ہم ان سیاست دانوں اور ان کی جماعتوں کی حمایت کریں گے؟.  اگر ہم ان سیاسی جماعتوں کے تعصب میں مبتلا رہتے ہیں تو پھر آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہم کیا بن کر پیش ہوں گے؟؟  
سوچیں اور غور کریں کہ ہم سب کس گمراہی کی راہ پر گامزن ہیں؟
Tags

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

About Us

Cooking Template is Designed Theme for Giving Enhanced look Various Features are available Which is designed in User friendly to handle by Piki Developers. Simple and elegant themes for making it more comfortable