تاریخ ابن کثیر اردو
تاریخ ابن کثیر، جس کا مصنف ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی (ابن کثیر) ہے، ایک اہم تاریخی کتاب ہے جو اسلامی تاریخ کے حوالے سے معروف ہے۔ یہ کتاب تفسیری، تاریخی اور تراجمی مواد پر مشتمل ہے اور ابو الفداء ابن کثیر کی شاندار تحقیقی صلاحیت اور قلم کی تصنیف کا شاہکار ہے۔
ابن کثیر، جو عام طور پر ہوشیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے، نے اپنی کتاب میں اسلامی تاریخ کے مختلف احداث، معارف، شخصیات اور واقعات کو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ تاریخ ابن کثیر میں خلافت کی اسلامی دور کے بعد کے واقعات، غزوات، خلفاء، مشہور صحابہ، تاریخی احداث، مصنف کی تشریف لائے ہوئے احادیث کا حوالہ، تاریخی اقوال، سیرتِ نبوی، ازلی و ابدی وجود کے معاملات اور دیگر اہم موضوعات پر بھی تفصیلی تحقیقات موجود ہیں۔
ابن کثیر کی تاریخ، چونکہ تفصیلی اور موثق حوالوں پر مبنی ہے، توانائی اور مضبوطی کے ساتھ تاریخی وقایع کو بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب تاریخی علم کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتی ہے اور سالم تاریخی معلومات کی تشکیل کا اہم ذریعہ ہے۔ تاریخ ابن کثیر نے اسلامی تاریخی کتابوں میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے ہے اور ایک زمانے سے عوام وخواص اس سے استفاده کر رہے ہیں
تاریخ ابن کثیر نے اسلامی تاریخی کتابوں کی ساخت و تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تحقیقی پس منظر، کسب کی گئی علمی اطلاعات اور حوالوں کی موثقیت نے اس کو علمی معیار کی بالائی مثال بنا دیا ہے۔ تاریخ ابن کثیر کا اسلوب قابل تعریف ہے جو پڑھنے والے کو تفصیلی، دلچسپ اور حقیقت پسندانہ جانکاری فراہم کرتا ہے۔
تاریخ ابن کثیر کی تشریف لائی ہوئی کتابوں کا زمرہ عموماً اردو زبان میں ترجمہ ہوتا ہے۔ ابن کثیر کی تاریخ کے بعض مشہور ترجمہ شدہ عناوین شامل ہیں: "البدایۃ والنہایۃ فی تاریخ البشر والرسل والملوک والسلاطین"، "الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب" اور "البدایۃ والنہایۃ فی تاریخ النبی والملوک"۔ یہ ترجمہ شدہ کتابیں اسلامی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو مسلط کرتی ہیں اور ان کی وجہ سے ابن کثیر کا علمی ورثہ زیادہ تکمیل شدہ طور پر پہچانا جاتا ہے۔
تاریخ ابن کثیر ایک انوکھی کتاب ہے جو تفصیلی روایات اور تاریخی وقایع کو درستی اور علمی اعتبار کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ ابو الفداء ابن کثیر کا مکمل تعارف یہی ہے کہ وہ ایک مشہور تاریخ دان، مصنف اور محقق تھے

