RANDOM / BY LABEL (Style 2)

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!

Admin 0

 

ہم کب سمجھیں گے کہ 10 سال کا بچہ اب کے زمانے میں بچہ نہیں رہا ہے؟

 بچوں کو اپنے زمانے سے کمپیئر کرنا بند دیں ۔

چاہے وہ کسی بھی میدان میں ہوں۔مگر ہماری سوئ میٹرک اور پھر ایف ایس سی تک یہیں پھسی رہتی یے کہ بچہ ہے بچہ ہے۔

 یہ دماغ سازی والدین کا کام ہے ۔ باپ مصروف ہیں تو آپ بطور والدہ بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ 

پوری نسل کی تیاری کا ہنر آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں اور خاص کر اولاد کی تربیت میں تو بالکل بھی نہیں ۔ فیمنسٹ بننا ہے تو یہاں بنیں کہ واہ کیا کمال صلاحیتیں ہیں ہمارے پاس کہ ہم قوم تیار کر سکتی ہیں۔

 بڑے لیول پر اپنے دماغ کو چلائیں ۔

 یہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں گھرکی نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہیں مگر یہ گھریلو کہانیاں آپ کی شناخت نہ بن جائیں ۔ 

 قرآن اور حدیث کو گھر میں اس طرح رائج کریں جیسا کہ مسلمان کو رائج کرنے کا حکم ہے۔اوڑھنا بچھونا ہمارا دین ہو وہ صرف اسلامیات کے مضمون تک محدود نہ ہو۔

اب آتے ہیں عملی اقدام پر کہ بچے کو کیسے بڑا کیا جائے؟ 

✅️1۔کھیلیں بچوں کے ساتھ خوب کھیلیں مگر جیسے ہی بچہ آپ کے ساتھ گھر کے کام میں داخل ہونا شروع ہو تو اس کو آہستہ آہستہ ذمہ داری دینا شروع کر دیں ۔  

✅️2۔ گھر کا سودا سلف لانے کےلیے اس کا 20 سال کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ 7 سال کا بچہ جو لسٹ بنا سکتا ہے قیمت دیکھ سکتا ہے اسے ساتھ لگائیں۔

✅️3۔ برتن رکھنا اٹھانا ذمہ داری نہ ان پر ڈال دیں مگر ساتھ لگائیں ۔

✅️4۔ گھر کا کچھ ٹوٹ گیا ہے خراب ہے بچے کو ہاتھ میں اوزار پکڑائیں۔ اگر خود آتا ہے تو سکھائیں۔ورنہ یوٹیوب کھول کر دیکھیں ۔ 

✅️5۔ صفائ ستھرائی میں ان کو اپنا آپ 10 سال تک مکمل آنا چاہئے 

ناخن کاٹنا، کپڑے نکالنا ، گندے کپڑوں کو ٹوکری میں ڈالنا بیڈ سیٹ کرنا۔۔۔ایک ایک کر کے۔۔۔

✅️6۔ان کی سالگرہ پر ان کوبتائیں کہ آپ صرف عمر میں بڑے نہیں ہو گئے ہو اب ماشاء اللہ آپ کو اللہ نے مزید صلاحیتیں عطا کر دی ہیں ان کا استعمال کرنا ہے ہم نے۔ 

✅️7۔ جو کام وہ پہلی دفعہ کریں اور نہ ہو پائے ان کے ساتھ لگے رہیں۔تھپکی دیں ۔غلطی پر ڈانٹ کا فائدہ نہیں غلطی سدھارنا سکھائیں۔

✅️8۔ معاملات میں ان کو دوسرے کا دیہان رکھنا ، کسی کے گھر کھانا بھجوانا ، فون کر کے رشتہ داروں سے بات ، غریب کی مدد کرنا ان کے ہاتھوں سے کروائیں ۔

✅️9۔ کردار کی بلندی کے لیے ان سے ان سب امور پر پہلے سے بات کرنا جو ان کو پیش آ سکتے ہیں ۔ چاہے وہ حیا ہے تو چاہے بلوغت ۔

 لڑکوں کے ساتھ 11 ، 12 میں اور لڑکیوں کے ساتھ 10 سال کی عمر میں سب ڈسکس کریں ۔

✅️10۔ بلوغت میں بلوغت کے ساتھ ہی دوسری جنس کی طرف رغبت فطری عمل ہے ۔ اس کو ایک ٹیبو نہ بنائیں بلکہ ان کو اچھے سے سمجھائیں کہ جب یہ ہو تو آپ کا کیا عمل ہونا چاہئے۔ تاکہ بچے آپ سے کھل کر اپنے مسائل بھی حل کروا سکیں اور اپنی ہی عمر کے کچے ذہنوں سے الٹے مشورے نہ لیں۔

غرض گزارش صرف یہ ہے کہ زمانے کی تیزی کے ساتھ آپ کو ہمت کر کے بھاگنا پڑے گا ۔

اللہ سے خاص دعا کریں کہ ہم امت کو بہترین کردار مہیا کرنے والے بن جائیں ۔کیونکہ اللہ کے کرم کے بغیر یہ ناممکن ہے۔

رحمہ طارق 

☆☆☆☆☆

ایک عجیب و غریب مگر دلچسپ دعاء

حضرت عمرؓ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں سرورِ کائنات ﷺ  کے روضہٕ اقدس کی زیارت کے لئے گئے وہاں روضہ کے سامنے ایک (اعرابی) دیہاتی کھڑا دعا مانگ رہا تھا حضرت عمرؓ اس کے پیچھے خاموش کھڑے ہو گئے

 وہ اعرابی یہ دعا مانگ رہا تھا (اے میرے رب یہ آپ کے حبیب ﷺ ہیں ، میں آپ کا بندہ (غلام ) ہوں اور شیطان آپ کا دشمن ہے) 

اے میرے رب اگر آپ میری  مغفرت کر دیں گے تو آپ کےحبیبﷺ خوش ہو جائیں گے اور آپ کا یہ بندہ کامیاب ہو جائے گا اور آپ کا دشمن غمگین اور ذلیل و خوار ہو جائے گا 

اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی تو آپ کے حبیبﷺ پریشان ہو جائیں گے ، دشمن خوش ہو جائے گا اور یہ بندہ ہلاک ہو جائے گا۔ 

 آپ بہت کرم اور عزت و شرف والے اس بات سے بہت بلند و بالا ہیں  کہ آپ اپنے حبیب ﷺ کو پریشان ، اپنے دشمن کو خوش اور اپنے بندے کو ہلاک کریں۔

اے میرے اللہ شرفاءِ عرب کا دستور ہے کہ جب ان میں سے کسی سردار کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کی قبر پر اس کے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جاتا ہے اور یہ تو تمام جہانوں کے سردار کی قبر مبارک ہے مجھے ان کی قبر مبارک پر جہنم کی آگ سے آزاد فرما۔

حضرت عمرؓ نے بھی اونچی آواز میں کہا اے میرے رب میں بھی یہی دعا مانگتا ہوں جو اس اعرابی نے مانگی ہے اور اتنے روئے کہ داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔

☆☆☆☆☆

ہمیں انقلابی علماء کی ضرورت ہے

ایک وہ قران تھا جو شیخ احمد یاسین نے فٹبال گراونڈ اور باڈی بلڈنگ کلبز سے فلس طینی نوجوانوں کو پکڑ کر پیار سے پڑھایا تھا اور ایک انقلابی نسل کھڑی کر دی تھی 

ایک وہ قران ہے جو آج ہم اور ہمارے جیسے مدرسین پڑھا رہے ہیں 

فرق صاف ظاہر ہے

وہ قران پڑھانے والا شیخ احمد  دنیا سے رخصت ہواتو پانچ لاکھ شعوری ایمان  اوردشمن کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے اورشکست دینے کے لئے بے چین نوجوان اس کے جنازے میں شریک تھے

ایک ہم ہیں کہ ہمارا قران  بس مخارج تجوید لفظی ترجمہ اور سطحی سی تفسیر سے آگے نہیں بڑھ پاتا آگے بڑھے تو چند آدھے پونے عقائد عبادات اخلاقیات و معاملات ٹھیک  کرنے سے زیادہ عملی زندگیوں پر کوئی اثر نہیں ڈال پاتا

ایک اللہ کے رسول علیہ السلام کا درس قران تھا جس نے اپنے دور کی ہر فیلڈ کی زبردست قیادت تیارکر دی جنہوں نےچندبرسوں میں اسلام کو سپر پاور بنا دیا

ایک ہمارا قران ہے جس کے مدرس اس کے پڑھنے والے اور اس کے مطابق ظاہری وضع قطع رکھنے والے بھی بڑھ رہے ہیں اور  اس سے کئی گنا تیزی سے معاشرے میں مغربیت اور الحاد بھی فروغ پا رہا ہے

آخر مسئلہ کہاں ہے؟ قران تو وہی ہے؟ پھر اس کا انقلابی اثر اور ثمر ہمیں کیوں نہیں مل رہا؟؟؟؟

#زبیرمنصوری


☆☆☆☆☆

15400 پائونڈ کا سوال:

الشیخ محمد صاوی موجودہ دور کے مشہور عالم دین ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف اور اپنے دل دہلانے والے خطبوں سے بھی کافی مقبول ہیں۔ سعودی عرب سے تعلق ہے۔ لیکن مصر میں مقیم ۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں سفر پر تھا۔ واپس اسکندریہ پہنچا تو تہجد کا وقت تھا۔ یہ سوچ کر مسجد کا رخ کیا کہ اگر گھر جا کر سو گیا تو جماعت نکل جائے گی۔ مسجد کے ہال میں داخل ہوا تو ایک بڑے میاں محراب میں سربسجود ہو کر رو رہے ہیں اور مصر کے عامی لہجے میں رب سے التجائیں کر رہے ہیں: 

يا رب خلاص بقا يا رب..

يا رب أنا تعبت خلاص يا رب..

يا رب مليش غيرك يا رب..

يا رب أروح فين يا رب؟

(پروردگار! مجھے نجات دے، میں تھک گیا ہوں اے رب! میرا کوئی اور رب بھی نہیں ہے تیرے سوا، میں اب کہاں جاوں تیرا در چھوڑ کر؟)

میں نے دل میں کہا کہ یہ کسی گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی سخت مجبوری اور ضرورت کیلئے التجائیں کر رہے ہیں۔ میں ان کا انتظار کرنے لگا۔ یہاں تک کہ انہوں نے نماز ودعا مکمل کی۔ میں ان کے قریب گیا۔ کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ چچا جان! کیا پریشانی ہے کہ آپ کی دعا نے میرا کلیجہ بھی چیر دیا؟

کہنے لگے کہ میری بیوی اسپتال میں ہے۔ آج 9 بجے آپریشن کا ٹائم دیا ہے ڈاکٹروں نے اور کہا ہے کہ آپریشن سے پہلے 15400 جنیہ (مصری پائونڈ۔ پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 لاکھ روپے) جمع کرا دو۔ لیکن میرے پاس تو ایک جنیہ بھی نہیں ہے۔

 میں نے کہا چچا جان اللہ جانتا ہے کہ میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ آپ کی کوئی مدد کر سکوں۔ لیکن میں آپ کو خوشخبری ضرور دیتا ہوں کہ اللہ جل شانہ ماں سے بھی زیادہ مہرباں ہے۔ اسی پر بھروسہ رکھو۔ وہ آپ کی دعا رائیگاں نہیں کرے گا۔

میں چونکہ سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا۔ اس لئے 2 رکعت پڑھ کر ہی ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر سو گیا۔ مؤذن نے آکر جگایا۔ میں نے وضو کر کے سنت پڑھ لی۔ اتنے میں امام صاحب آگئے۔ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور فرمایا کہ "بالله يا شيخ تصلي بنا" یعنی قسم دی کہ آج نماز آپ پڑھائیں۔ میں نے معذرت کی کہ سفر کی وجہ سے تھکا ہوا ہوں۔ لیکن امام صاحب نے کوئی عذر نہیں سنا اور فرمایا کہ چلیں، چھوٹی سورت سے ہی نماز پڑھالیں۔ بہرحال میں نے جماعت کرالی۔ 

سلام پھیرنے کے بعد میں مقتدیوں کی طرف رخ پھیر کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ تیسری صف سے ایک شخص میری طرف آنے لگا۔ وضع قطع سے ہی کوئی بڑا امیر کبیر آدمی معلوم ہو رہا تھا۔ گرم جوشی سے مجھے سلام کیا اور کہا کہ میرا گھر یہاں قریب ہی ہے، عموماً فجر میں مسجد نہیں آپاتا، لیکن آج آپ کی آواز آئی تو چلا آیا تاکہ آپ کی اقتدا میں نماز پڑھ لوں اور سلام بھی کر لوں۔ پھر کہنے لگا کہ الحمد للہ میری فلاں روڈ پر پلاسٹک کی بڑی فیکٹری ہے۔ اللہ کا بڑا ہی کرم ہے مجھ پر۔ ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میرے پاس زکوٰۃ کے 15400 جنیہ جمع ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ شیخ صاوی کہتے ہیں کہ یہ 15400 کا ہندسہ سن کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ پھر بے اختیار میری ہچکی بند گئی۔ لوگ حیران کہ شیخ کو کیا ہوگیا۔ انہیں کیا پتہ کہ نالہ نیم شبی میں کتنی قوت ہے، جو عجیب طریقے سے اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ میں نے صفوں میں نظر دوڑائی تو اس بے چارے ضرورت مند پر بھی نظر پڑی، جو سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں نے کہا کہ آیئے حاجی صاحب! وہ میرے پاس آئے۔ ان کی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہو رہی  تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ چچا جان، آپ کیوں رو رہے تھے تو اس سادہ مزاج آدمی نے کہا بتا دیا ناں کہ میری بیوی کا آج آپریشن ہے، جس کا خرچہ 15400 جنيہ ہے، مگر میرے پلے ایک جنیہ بھی نہیں۔ (میں دراصل سیٹھ صاحب کو سنوانا چاہ رہا تھا) 

یہ سن کر سیٹھ صاحب بے اختیار مجھ سے لپٹ گئے اور اللہ اکبر کے نعرے لگانے لگے۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہے؟ تو کہا کہ میری بیوی کب سے کہہ رہی تھی کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، اسے کسی مستحق کو دے دو۔ لیکن میں ہر بار اس سے کہتا کہ نہیں، جب تک کوئی سخت حاجت مند مل جائے تاکہ اس رقم کی وجہ سے اللہ کریم اس کی شدید ضرورت کو پورا کرے۔ بس اسی کو یہ رقم دے دوں گا تاکہ اس کی مصیبت دور کرنے پر اللہ تعالیٰ روز قیامت ہمارے مصائب کو دور فرمائے۔ کیونکہ رسول اقدسؐ نے فرمایا ہے کہ

من فرج عن مسلم كربة من كرب الدنيا فرج الله عنه كربة من كرب يوم القيامة "

یعنی جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی مصیبت و تنگی کو دور کیا اللہ تعالیٰ قیامت اس کی تنگی کو دور فرمائیں گے۔ (صحیح مسلم: 4585)

☆☆☆☆☆

غیرتِ ایمانی کا ثبوت دیں

عصرِ حاضر کے مفسرین و محدثین و علمائے کرام و مفتیانِ کرام و  مشائخ عظام سمیت تمام بڑی بڑی مذہبی سیاسی و غیرسیاسی جماعتوں کے امیر و قائدین و رہنماوں اور لاکھوں کروڑوں مریدین رکھنے والے پیروں سے ادب و معذرت کیساتھ گزارش ہے کہ

اگر غیرتِ ایمانی ہے تو ایک بار توجہ کے ساتھ یہ مکمل تحریر پڑہیے۔

اگست 1099ء، رمضان کا مہینہ، جمعہ کا وقت.....

بغداد کی مرکزی جامع مسجد میں مسلمانوں کے خلیفہ وقت ، المستظہر باللہ جمعہ کے خطبہ کےلئے منبر پر آکر کھڑے ہوئے۔۔۔

عین اس وقت اچانک سامنے کی صف میں بیٹھے ایک شخص نے اپنے تھیلے سے ایک روٹی نکال کر کھانا شروع کردی ۔۔۔

رمضان کے پہلے جمعہ کا خطبہ، اسلامی دارالحکومت کی مرکزی مسجد اور عباسی خلیفہ کے سامنے ایک شخص  کایوں روٹی کھانا شروع ۔۔

لوگ غصہ میں مارنے کو دوڑے ۔

 پوری مسجد کے لوگ بشمول خلیفہ بھی اس عجیب منظر کو دیکھنے لگے کہ آخر ہو کیارہا ہے؟

کوئی پاگل ہے یا بد تمیز ؟ آخر ہے کون ؟ 

لوگوں نے غصے سے پوچھا کہ یہ کیا حرکت کی تم نے ؟؟

اس پر اس شخص نے گرج دار آواز میں اب بولنا شروع کیا ! 

“ تم لوگ میرے رمضان میں یوں کھانا کھانے پر غصہ ہورہے ہو ، تم سب کی غیرت اچانک جاگ گئی کہ کیسے ایک شخص نے مسجد میں کھانا کھا کر توہین کردی ۔۔

لیکن دو ہفتے پہلے بیت المقدس ، مسجد اقصیٰ پر، صلیبوں نے قبضہ کرلیا ، مسجد میں قرآن مجید کی توہین کی گئی، مگر تم میں سے کسی کی غیرت نہ جاگی ۔۔۔

یہاں بغداد میں کسی کے روزمرہ کے کام تک نہ رکے ۔۔۔ 

حتی کہ میں ایک ہفتے سے خلیفہ سے ملنے کی کوشش کرتا رہا لیکن انکے محافظوں اور آس پاس گھومتے چمچوں نے ملنے تک نہ دیا ۔۔۔

تمہیں لگا کہ میں نے یہاں کوئی حرام کام کیا ہے جبکہ میں تو دمشق سے آیا ہوا ایک مسافر ہوں ، جس پر روزہ رکھنا فرض ہی نہیں ۔ لیکن اے خلیفتہ المسلمین !!! تم پر تو بیت المقدس کی حفاظت فرض تھی، تم نے کیوں اسے صلیبیوں کے ہاتھ میں جانے دیا ؟ 

تم یہاں خطبہ دے رہے ہو وہاں ہمارے بھائی در بدر پھر رہے ہیں ہماری بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں۔ 

میں دمشق کا قاضی اور امام الھراوی ہوں ۔ میں تمہیں جھنجھوڑنے آیا ہوں کہ آنکھیں کھولو! اقصیٰ کو صلیبیوں سے آزاد کرواؤ ۔ اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر عورتوں کی طرح گھر بیٹھ جاؤ ۔ 

شیخ الھراوی دیر تک بولتے رہے ، لوگ زار و قطار رو نے لگے۔ خود خلیفہ نے روتے ہوئے معافی مانگی اور سلجوق حکمران سے مل کر اقصیٰ کی آزادی کے لئیے جدوجہد کا وعدہ کیا ۔

یہ شیخ زین الاسلام الھراوی رحمۃ اللہ علیہ تھے جو افغانستان کے صوبے ھرات میں پیدا ہوئے اور پھر دمشق جاکر دینی علوم میں وہ مہارت حاصل کی کہ قاضی یعنی چیف جسٹس مقرر ہوئے، آپ بڑے عالم اور بہترین خطیب بھی تھے ۔ 

اقصی پر دشمن نے قبضہ کیا تو آپ نے مدرسہ میں بیٹھ کر پڑھنے پڑھانے کے عمل  کو موقوف کرکے،امت اور امت کے حکمرانوں کے ضمیر کو جگانے کی مہم کا آغاز کیا۔ 

انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا جو بالآخر کئی سال بعد صلاح الدین ايوبي کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح کی صورت میں نکلا۔

لیکن آج کے علماء، مکتب و مدرسے میں  درس وتدریس کے فرائض ادا کرنے کے بعد یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ شاید ہم پرجہاد باللسان، جہادبالقلم جہادبالمال اور جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت ساقط ہوگٸ۔

منقول 

☆☆☆☆☆

یہ وقت دعاؤں نہیں ۔ عملی اقدامات کرنے کا ہے۔

شام میں چار ہزار انبیاء اور کئی ہزار اولیا کے مزارات ہیں

صرف دمشق شہر میں پانچ سو کے قریب مزارات ہیں جن میں ابن عربی جیسے بڑے بزرگ کا مزار بھی ہے

داعش نے پورے شام کو تباہ و برباد کر دیا مگر کسی نبی کسی ولی کی روح نے مسلمانوں کی اعانت نہیں کی ؟

یہاں تک کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کو راکٹ حملوں سے گرا دیا گیا، مگر کہیں کوئی جنبش نہیں ہوئی

داعش دس سال تک تباہی و بربادی کی نئی تاریخ لکھنے کے بعد اپنی طبعی موت مر گئی

عراق چلیں :

یہاں بھی ہزاروں انبیا ، اہل بیت اور اولیا کے مزارات ہیں

بغداد ، موصل ، بصرہ ، کربلا ، نجف اشرف سب عراق میں ہیں

پہلے امریکہ نے سات سال تک دن رات بمباری کی

اور پھر داعش نے اینٹ سے اینٹ بجا دی

کسی نبی ، ولی یہاں تک کہ مولا علی علیہ السلام نے بھی کوئی مدد نہیں کی

اور سب کچھ برباد ہو گیا

اب فلسطین چلتے ہیں :

پورے فلسطین میں تین سو انبیاء کرام کے مزارات ہیں

جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم الشان پیغمبر بھی شامل ہیں

مگر پچھلے ستر سالوں سے بیت المقدس کو آگ اور خون سے نہلایا جا رہا ہے

اور جن انبیا کرام کے تبرکات (تابوت سکینہ)کی برکت سے فتح ملا کرتی تھی

ان انبیا کرام کے اپنے وجود موجود ہیں

اور برکت کا نام و نشان تک نہیں ہے ؟

چند شرپسند یہودی غالب ہیں

آئیے تھوڑا پیچھے تاریخ میں چلتے ہیں

تاکہ ہم بات کو واضح طور پر سمجھ سکیں :

مکہ میں بیت اللہ پہ ابراہہ نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا

اللہ نے اس کے لشکر کو ابابیلوں سے کنکر مروا کر نیست و نابود کر دیا

پھر وقت آیا

کہ اسی کعبہ پر حجاج بن یوسف نے پتھر برسائے

اسے اور اس کی فوج کو کچھ نہ ہوا

یزید بن معاویہ نے کعبہ کو آگ لگوا دی

مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے اور مدنی عورتوں کے ریپ کئے

اللہ کا کوئی عذاب نہ آیا

وہ مکہ اور مدینہ سے زندہ سلامت نکل گیا ، پھر 1926 میں چلیں

آل سعود نے محمد بن عبد الوہاب کے وہابی نظریات سے متاثر ہو کر جنت البقیع میں موجود بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، امام حسن علیہ السلام ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی اہل بیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مزارات مسمار کر دئیے

آسمان سے کوئی آفت نہیں اتری

وہابی روضہ رسول ﷺ کو "صنم اکبر " کہہ کر توڑنا چاہتے تھے مگر پھر امت مسلمہ کے احتجاج کی وجہ سے ڈر گئے

اور باز آ گئے

مگر انہوں نے منصوبہ آج تک ختم نہیں کیا، اور یہ دیکھیں کہ پچھلے سو سال سے وہ آل سعود حرمین شریفین کے خادم بنے بیٹھے ہیں

جو صحرائی ڈاکو ہوا کرتے تھے

اور ان کو حکومت میں لانے کا سہرا لارنس آف عربیہ کے سر جاتا ہے

ماضی اور حال کا تقابل کریں تو آپ جان پائیں گے کہ اللہ نے مسلمانوں کی صرف وہاں مدد کی

جہاں وہ کم تعداد کے باجود اس پر بھروسہ کر کے میدان عمل میں نکل آئے

بدر میں تین سو تیرہ تھے

مگر ثابت قدم رہے تو ایک ہزار پر فتح دلا دی ، حنین میں کثرت تعداد پر فخر کیا تو رگڑا لگا دیا

قادسیہ میں پھر توکل کے معیار پر پورا اترے تو رومی لشکر تین گنا زیادہ ہونے کے باوجود خاک میں مل گیا

جہاں کہیں مسلمان حق کیلئے کھڑے ہوئے ،اللہ کی مدد ضرور آئی

اور جہاں کہیں مسلمانوں نے عمل سے منہ موڑا

وہاں جوتے پڑے

اور اللہ نے کوئی مدد نہیں کی

یاد رکھیں اس وقت جتنے بھی عرب اسلامی ممالک ہیں

یہ سب مسلمانوں نے باقاعدہ فتح کیے ہیں ، جب فتح کیے

تب اللہ کیلئے جہاد کر رہے تھے

آج اپنے ہی ملکوں کو نہیں بچا پا رہے

مطلب ترجیحات درست نہیں ہیں

اللہ رب العالمین ہے

وہ رب المسلمین نہیں ہے

جو اس کے ضابطوں پر پورا اترے گا

اسے وہ بادشاہی اور طاقت عطا کرے گا

اللہ کے ہاں کوئی تفریق نہیں

جو محنت کرے گا

وہ پا لے گا

آج سارے عرب متحد ہو جائیں

اسرائیل کا نام و نشان مٹ جائے گا

پاکستانی عوام بزدلی چھوڑ دے

سب ظالموں سے نجات پا لے گی

مگر منافقت ، بزدلی اور بے غیرتی کو اللہ پسند نہیں کرتا

لہذا آپ مرتے رہیں

برباد ہوتے رہیں

اللہ کی مدد نہیں آئے گی

اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں

انبیا کرام ، اہل بیت ، اولیا کرام کی ارواح اور فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں

کہ اللہ جن سے راضی ہوتا ہے

اللہ کے سوا درحقیقت کوئی طاقت نہیں ہے، کیسے ممکن ہے کہ کوئی ولی یا فرشتہ اللہ کی مشیت کے خلاف جا کر کسی کی استعانت کرے ؟

اللہ کے معیار پر پورا اترو

پھر وہ جسے چاہے تمہاری مدد کیلئے

بھیج دے

تب تک تم کعبے کی دیواروں سے ٹکریں مار مار کر مر جاؤ

وہ بے نیاز ہے

حجاج بن یوسف نے کئی صحابہ کو بیت اللہ کے اندر قتل کیا

اللہ نے نہیں بچایا

اللہ کے نظام پہ غور و فکر کرو

خود کو بدلو

اللہ تو تمہاری مدد کو ہر لمحہ تیار بیٹھا ہے، بقول اقبال:

ہم تو مائل بہ کرم ہیں

کوئی سائل ہی نہیں

☆☆☆☆ 

محمد بلال افتخار خان

دو چیزین خطرناک ترین تباہی پیدا کرتی ہیں۔

- عبادت پر غرور

۔ علم پر غرور

یہ دونوں غرور ملتے ہیں تو پھر نسلی غرور پیدا ہوتا ہے۔۔۔ برہمن پجاری تھے دین کا علم رکھتے تھے۔۔ اسی پوجا کی وجہ سے وہ غیر برہمنوں سے خود کو اونچا سمجھنے لگے اور غرور عبادت نے غرور نسلی کو جنم دیا ۔۔۔ اس غرور نسلی کو بچانے کے لئے

ویدون کے ہوتے ہوئے علماء و پنڈتوں کے اقوال اور پھر مہابھارت رامائین جیسی کتابین لکھی گئین۔۔۔۔ اب اگر ویدون کا جائزہ لیا جائے تو یہ باقی کتب کے کافی بر عکس ہیں۔۔۔ ابلیس یا شیطان ایک جن تھا جسے اس کی عبادت کی وجہ سے فرشتون میں جگہ ملی اور عزازیل کا نام عطا ہوا۔۔۔ اس کی عبادت و ریاضت نے اس میں ایسی انا پیدا کردی جو آدم کے حوالے سے احکام خداوندی کے انکار کی صورت میں ظہور پزیر ہوئی۔۔۔ اور پھر وہ لعین ٹھہرا۔۔۔۔

زبد خشک جسے عشق کی آبیاری نا ہو ۔۔۔ انائے ابلیسی کو جنم دیتا ہے۔۔ عشق میں چونکہ محبوب قائم اور عاشق فنا ہوتا ہے اس لئے انا بچتی ہی نہیں اور جو نظر آتی ہے وہ محبوب کی ذات کی نسبت پیدا ہوئی خودی ہوتی ہے۔۔۔ حدیث پر نظر دہرئین تو پتہ چلے گا کہ مقام عشق بی مقام مومن ہے اور یہ وہ مقام ہے

جہان مومن اپنی نہیں معبود کی فراست سے دیکھتا ہے۔۔ کیونکہ وہ خود کو مٹا کر معبود برحق کی رضا میں فنا ہو چکا ہوتا ہے۔ بقول اقبال

 عشق پہ بجلی حلال عشق پہ حاصل حرام

علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب 


☆☆☆☆☆


 محمد بلال افتخار خان

عیب دیکھنے والا غیب نہیں دیکھ سکتا۔۔

 عیب دیکھنے والے کو مکھی گندگی میں بیٹھتی نظر آتی ہے۔۔جبکہ جسے نور بصیرت عطا ہو ۔۔۔وہ مکھی کو گندگی کی نشاندھی کرنے والی محسن کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

شکوہ کرنے والا اعتماد کا  فقدان رکھتا ہے اور شکوے سے بتاتا ہے کہ وہ کچا ہے ابھی پکا نہیں جبکہ مقام شکوہ کو مقام شکر دیکھنے والا مالک کے عشق میں فنا ہر سختی کو مالک کی طرف سے آزمائش , رضا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے

کئی بار طاقت کا نا ہونا ،طاقت کے ہونے سے بڑی رحمت ہوتی ہے۔۔ کئی بار مالک کی رحمت سے چھپے رہنا ،ظاہر ہو کر سب کچھ گنوا دینے سے بہتر ہوتا ہے۔۔۔ جسے ہم تپش سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ در اصل ہمیں فولاد بنا رہی ہوتی ہے۔۔۔دیکھنے کا انداز حقیقتین اور اُن کے اثرات و نتائج بدل دیتا ہے ۔۔ پس جس نے عیب پر توجہ دی وہ غیب سے بے ہوش رہا اور جس کی نظر غیب پر ہوئی وہ تمام مشکلات کے باوجود منزل پا گیا ۔


☆☆☆☆☆

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

About Us

Cooking Template is Designed Theme for Giving Enhanced look Various Features are available Which is designed in User friendly to handle by Piki Developers. Simple and elegant themes for making it more comfortable